Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. مرمر کے پئے رنج و بلا جیتے ہیںناراض ہیں راضی بہ رضا جیتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  2. منہ گیسوئے پر خم سے نہ موڑوں کب تکاس سلسلۂ‌ پا کو نہ توڑوں کب تکQalaq Meerathi (1835–1880)
  3. ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہےساقی و شراب ہی کا نوحہ خواں ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  4. وہ وقت شباب وہ زمانہ نہ رہاوہ نشہ مستی وہ ترانہ نہ رہاQalaq Meerathi (1835–1880)
  5. ہر روز خوشی ہے شب غم سے پامالخالی کا ہے چاند بعد شہر شوالQalaq Meerathi (1835–1880)
  6. ہر زخم جگر کھایا ہے دل پر تن کرچھلنی کہ ہوا شکل کلیجا چھن کرQalaq Meerathi (1835–1880)
  7. ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجرہر سال نئے پھولتے پھلتے ہیں ثمرQalaq Meerathi (1835–1880)
  8. ہم کوں ہیں اہتمام کرنے والےہر کام میں صبح و شام کرنے والےQalaq Meerathi (1835–1880)
  9. ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غمہر سانس سے آتی ہے صداۓ ماتمQalaq Meerathi (1835–1880)
  10. ہے مہر کرم گناہ گاری میریامضائے نوید امیدواری میریQalaq Meerathi (1835–1880)
  11. یاں نفس کی شوخی سے ہے مجنوں لیلیٰقانع ہے تو مت بہر نفی کہنا لاQalaq Meerathi (1835–1880)
  12. یہ شہر بلند عالم بالا سے تھاہم شکل غرض جنت ماویٰ سے تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  13. یہ وہم دوئی دل سے جدا کرنا تھااس قطرے کو دریا میں فنا کرنا تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  14. مرض پیری لا علاج ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  15. عشقAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  16. وقت کی مساعدتAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  17. انقلاب روزگارAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  18. موجودہ ترقی کا انجامAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  19. جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہےدشمن سے بھی نام تیرا جپواتی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  20. مکر و ریاAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  21. مخالفت کا جواب خاموشی سے بہتر نہیںAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  22. ریفارم کی حدAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  23. سختی کا جواب نرمی ہےAltaf Hussain Hali (1837–1914)
  24. آیا ہوں میں جانب عدم ہستی سےپیدا ہے بلند پائے گی پستی سےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  25. اسراف سے احتراز اگر فرماتےکیوں گردش ایام کی سیلی کھاتےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  26. افسردگی اور گرم جوشی بھی غلطگم گشتگی اور خود فروشی بھی غلطIsmail Meeruthi (1844–1917)
  27. اک عالم خواب خلق پر طاری ہےیہ خواب میں کارخانہ سب جاری ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  28. الحق کہ نہیں ہے غیر ہرگز موجودجب تک کہ ہے وہم غیر حق ہے مفقودIsmail Meeruthi (1844–1917)
  29. اے بار خدا یہ شور و غوغا کیا ہےکیا چیز طلب ہے اور تمنا کیا ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  30. اے بے خبری کی نیند سونے والوراحت طلبی میں وقت کھونے والوIsmail Meeruthi (1844–1917)
  31. با ایں ہمہ سادگی ہے پرکاری بھیشوخی بھی ہے اس میں عیاری بھیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  32. بدلا نہیں کوئی بھیس ناچاری سےہر رنگ ہے اختیار سرکاری سےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  33. برہان و دلیل عین گمراہی ہےنفی و اثبات محض جاں کا ہی ہےIsmail Meeruthi (1844–1917)
  34. بندہ ہوں تو اک خدا بناؤں اپناخالق ہوں تو اک جہاں دکھاؤں اپناIsmail Meeruthi (1844–1917)
  35. بے کار نہ وقت کو گزارو یارویوں سست پڑے پڑے نہ ہمت ہاروIsmail Meeruthi (1844–1917)
  36. پانی میں ہے آگ کا لگانا دشواربہتے دریا کو پھیر لانا دشوارIsmail Meeruthi (1844–1917)
  37. پر شور الفت کی ندا ہے اب بھیجو تھی وہی آن اور ادا ہے اب بھیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  38. تاریک ہے رات اور دنیا ذخارطوفان بپا ہے اور کشتی بے کارIsmail Meeruthi (1844–1917)
  39. توحید کی راہ میں ہے ویرانۂ سختآزادی و بے تعلقی ہے یک لختIsmail Meeruthi (1844–1917)
  40. تھا رنگ بہار بے نوائی کہ نہ تھاظاہر تھا زوال انتہائی کہ نہ تھاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  41. تیزی نہیں منجملۂ اوصاف کمالکچھ عیب نہیں اگر چلو دھیمی چالIsmail Meeruthi (1844–1917)
  42. جب تک کہ سبق ملاپ کا یاد رہابستی میں ہر ایک شخص دل شاد رہاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  43. جب گوئے زمیں نے اس پہ ڈالا سایہتو ماہ شب چار دہم گہنایاIsmail Meeruthi (1844–1917)
  44. جس درجہ ہو مشکلات کی طغیانیہو اہل ہم کو اور بھی آسانیIsmail Meeruthi (1844–1917)
  45. جو تیز قدم تھے وہ گئے دور نکلدیکھے بھالے بہت مقامات و محلIsmail Meeruthi (1844–1917)
  46. جو چاہئے وہ تو ہے ازل سے موجودحاصل ہے مراد اور مہیا مقصودIsmail Meeruthi (1844–1917)
  47. جو صاحب مکرمت تھے اور دانش‌‌ مندوہ لوگ تو ہو گئے زمیں کے پیوندIsmail Meeruthi (1844–1917)
  48. چوپائے کی طرح تو کتابوں سے نہ لدحاصل ہے کتاب کا فقط علم و خردIsmail Meeruthi (1844–1917)
  49. حقا کہ بلند ہے مقام اکبرتوقیع سخن ہے اب بہ نام اکبرIsmail Meeruthi (1844–1917)
  50. حق ہے تو کہاں ہے پھر مجال باطلحق ہے تو عبث ہے احتمال باطلIsmail Meeruthi (1844–1917)