Poetry
- بیدار نہیں کوئی جہاں خواب میں ہےنیرنگ عجب عالم اسباب میں ہےبیان میرٹھی
- پیری کی سپیدی ہے کہ مرتا ہوں میںجوں شمع دم صبح گزرتا ہوں میںبیان میرٹھی
- سچ ہے کہ جہاں میں سیر کیا کیا دیکھیمشرق کی طرف برق تجلی دیکھیبیان میرٹھی
- کب کوئی فضول ہاتھ ملتا ہے بھلامطلب کہیں اس طرح نکلتا ہے بھلابیان میرٹھی
- گرمی امسال کس قیامت کی پڑیایک ایک گھڑی ہوئی قیامت کی گھڑیبیان میرٹھی
- ہاں جہل تمہیں سے رنگ لایا پھر کیوںلایا تو گلا زباں پر آیا پھر کیوںبیان میرٹھی
- آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائےغل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
- اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہےخنداں گل امید یہاں رہتا ہےمرزا سلامت علی دبیر
- اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کرممنوں گدا دلوں کا یا شاہ نہ کرمرزا سلامت علی دبیر
- پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہےعالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہےمرزا سلامت علی دبیر
- صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سےآخر ہوئی بیمار تپ ہجراں سےمرزا سلامت علی دبیر
- کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہےچہرے میں عجب نور کی زیبائی ہےمرزا سلامت علی دبیر
- ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائےپھر تازہ مری مرثیہ خوانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
- ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہےاور بین کے مابین بیاں اور ہی ہےمرزا سلامت علی دبیر
- یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کوآباد رکھو اہل عزا کے گھر کومرزا سلامت علی دبیر
- رحمت کا تیرے امیدوار آیا ہوںمنہ ڈھانپے کفن میں شرمسار آیا ہوںبھارتیندو ہریش چندر
- اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاججو قوم ہو کبھی نہ محتاج علاجسید محمد عبد الغفور شہباز
- اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہمیا اس سے کہ کج کلاہ ہو سکتے ہمسید محمد عبد الغفور شہباز
- ایرانی فصاحت اور حجازی غیرتیونانی بلاغت اور رومی حکمتسید محمد عبد الغفور شہباز
- پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفرممکن ہی نہیں اس سے کسی طرح مفرسید محمد عبد الغفور شہباز
- تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روحمینا ہے یہ اور بادۂ ناب ہے روحسید محمد عبد الغفور شہباز
- جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہرہو اس سے رذیلوں کی برائی ظاہرسید محمد عبد الغفور شہباز
- دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیںمحراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیںسید محمد عبد الغفور شہباز
- یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہےہر طرح سے جو خیال کو بھائی ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
- آغاز ہے کچھ طرح نہ انجام ترابندوں پہ ہمیشہ لطف ہے عام تراسرور جہاں آبادی
- اس باغ میں کس کا پھول چنتے دیکھاسر خاک پہ باغباں کو دھنتے دیکھاسرور جہاں آبادی
- اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹےبن بن کے حباب کاسۂ سر ٹوٹےسرور جہاں آبادی
- کافور ہے دل جلوں کو تنویر سحرٹھنڈک ہے کلیجوں کی طباشیر سحرسرور جہاں آبادی
- انسان تو نقد جاں بھی کھو دیتا ہےممکن ہو تو اپنا نشاں دھو دیتا ہےفرحت کانپوری
- ہے ساتھ عبادت کے عبا بھی تیریشامل ہے ریاضت میں ریا بھی تیریفرحت کانپوری
- جو کوئی کہ آفت نہانی مانگےاور ملک عدم کی کچھ نشانی مانگےمرزا علی لطف
- دے جس کو شراب ناب پانی کا مزاکیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزامرزا علی لطف
- الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہےغم لاکھ سہے تو ایک خوشی ملتی ہےآسی الدنی
- باتوں میں تو اختیار شیرینی کراظہار نیاز و عجز و مسکینی کرآسی الدنی
- ظالم دم نزع نہ آیا افسوسافسانۂ غم نہ سننے پایا افسوسآسی الدنی