Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بیدار نہیں کوئی جہاں خواب میں ہےنیرنگ عجب عالم اسباب میں ہےبیان میرٹھی
  2. پیری کی سپیدی ہے کہ مرتا ہوں میںجوں شمع دم صبح گزرتا ہوں میںبیان میرٹھی
  3. سچ ہے کہ جہاں میں سیر کیا کیا دیکھیمشرق کی طرف برق تجلی دیکھیبیان میرٹھی
  4. کب کوئی فضول ہاتھ ملتا ہے بھلامطلب کہیں اس طرح نکلتا ہے بھلابیان میرٹھی
  5. گرمی امسال کس قیامت کی پڑیایک ایک گھڑی ہوئی قیامت کی گھڑیبیان میرٹھی
  6. ہاں جہل تمہیں سے رنگ لایا پھر کیوںلایا تو گلا زباں پر آیا پھر کیوںبیان میرٹھی
  7. آہوں سے عیاں برق فشانی ہو جائےغل رعد کا نالوں کی زبانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
  8. اس در پہ ہر ایک شادماں رہتا ہےخنداں گل امید یہاں رہتا ہےمرزا سلامت علی دبیر
  9. اے خضر کے رہبر مجھے گمراہ نہ کرممنوں گدا دلوں کا یا شاہ نہ کرمرزا سلامت علی دبیر
  10. پروانے کو دھن شمع کو لو تیری ہےعالم میں ہر ایک کو تگ و دو تیری ہےمرزا سلامت علی دبیر
  11. صغریٰ کا مرض کم نہ ہوا درماں سےآخر ہوئی بیمار تپ ہجراں سےمرزا سلامت علی دبیر
  12. کیا قامت احمد نے ضیا پائی ہےچہرے میں عجب نور کی زیبائی ہےمرزا سلامت علی دبیر
  13. ہر چشم سے چشمے کی روانی ہو جائےپھر تازہ مری مرثیہ خوانی ہو جائےمرزا سلامت علی دبیر
  14. ہے رزم سراپا تو زباں اور ہی ہےاور بین کے مابین بیاں اور ہی ہےمرزا سلامت علی دبیر
  15. یا شاہ نجف تھام لو اس کشور کوآباد رکھو اہل عزا کے گھر کومرزا سلامت علی دبیر
  16. رحمت کا تیرے امیدوار آیا ہوںمنہ ڈھانپے کفن میں شرمسار آیا ہوںبھارتیندو ہریش چندر
  17. اخلاق کے عنصر ہوں اگر اصل مزاججو قوم ہو کبھی نہ محتاج علاجسید محمد عبد الغفور شہباز
  18. اس سے کہ کہیں کے شاہ ہو سکتے ہمیا اس سے کہ کج کلاہ ہو سکتے ہمسید محمد عبد الغفور شہباز
  19. ایرانی فصاحت اور حجازی غیرتیونانی بلاغت اور رومی حکمتسید محمد عبد الغفور شہباز
  20. پاتا نہیں موت پر کوئی شخص ظفرممکن ہی نہیں اس سے کسی طرح مفرسید محمد عبد الغفور شہباز
  21. تن عیش کا گھر ہے اس کا اسباب ہے روحمینا ہے یہ اور بادۂ ناب ہے روحسید محمد عبد الغفور شہباز
  22. جس علم سے اچھوں کی ہو خوبی ظاہرہو اس سے رذیلوں کی برائی ظاہرسید محمد عبد الغفور شہباز
  23. دولت نہیں جب تک یہ زبوں رہتے ہیںمحراب دعا میں سرنگوں رہتے ہیںسید محمد عبد الغفور شہباز
  24. یہ بات عجیب نگاہ میں آئی ہےہر طرح سے جو خیال کو بھائی ہےسید محمد عبد الغفور شہباز
  25. آغاز ہے کچھ طرح نہ انجام ترابندوں پہ ہمیشہ لطف ہے عام تراسرور جہاں آبادی
  26. اس باغ میں کس کا پھول چنتے دیکھاسر خاک پہ باغباں کو دھنتے دیکھاسرور جہاں آبادی
  27. اس بحر میں سیکڑوں ہی لنگر ٹوٹےبن بن کے حباب کاسۂ سر ٹوٹےسرور جہاں آبادی
  28. کافور ہے دل جلوں کو تنویر سحرٹھنڈک ہے کلیجوں کی طباشیر سحرسرور جہاں آبادی
  29. انسان تو نقد جاں بھی کھو دیتا ہےممکن ہو تو اپنا نشاں دھو دیتا ہےفرحت کانپوری
  30. ہے ساتھ عبادت کے عبا بھی تیریشامل ہے ریاضت میں ریا بھی تیریفرحت کانپوری
  31. جو کوئی کہ آفت نہانی مانگےاور ملک عدم کی کچھ نشانی مانگےمرزا علی لطف
  32. دے جس کو شراب ناب پانی کا مزاکیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزامرزا علی لطف
  33. الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہےغم لاکھ سہے تو ایک خوشی ملتی ہےآسی الدنی
  34. باتوں میں تو اختیار شیرینی کراظہار نیاز و عجز و مسکینی کرآسی الدنی
  35. ظالم دم نزع نہ آیا افسوسافسانۂ غم نہ سننے پایا افسوسآسی الدنی