Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گیتا قبر نہ راحت سے ذرا گزرے گیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  2. نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیےافسانہ ہوئے بیان ہونے کے لیےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
  3. جنت کا سماں دکھا دیا ہے مجھ کوکونین کا غم بھلا دیا ہے مجھ کوAkhtar Shirani (1905–1948)
  4. مے خانہ بہ دوش ہیں گھٹائیں ساقیپیمانہ فروش ہیں فضائیں ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
  5. آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔاس حکم کو ہم سنیں ملک سے ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
  6. الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شرابکہتے ہیں ہوا چاک کشاکش میں نقابسید یوسف علی خاں ناظم
  7. پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نےمشہور کیا سعیٔ نظر کو میں نےسید یوسف علی خاں ناظم
  8. ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیںپر عشق کی تاثیر بھی بے کار نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  9. عاشق جو ہوا ہے تو کسے پر ناگاہہے میری طرح سے حال تیرا بھی تباہسید یوسف علی خاں ناظم
  10. کیا بات ہے کارساز تیری میں کونکیا شان ہے بے نیاز تیری میں کونسید یوسف علی خاں ناظم
  11. گر عقل و شعور کی رسائی ہوتےواعظ کی سمجھ میں بات آئی ہوتیسید یوسف علی خاں ناظم
  12. گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیحایسا ہے کچھ اتحاد باطل ہے صریحسید یوسف علی خاں ناظم
  13. گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقیہے اس سے ہمیں ایک حکایت باقیسید یوسف علی خاں ناظم
  14. گو کچھ بھی وہ منہ سی نہیں فرماتے ہیںشیریں سخنی کا ہم مزا پاتے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  15. ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخساردین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبارسید یوسف علی خاں ناظم
  16. وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگاپیدا بھی ہوا تو تو ہی کہہ کیا ہوگاسید یوسف علی خاں ناظم
  17. یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیففاقوں سے ہوئے ہیں آدمی زار نحیفسید یوسف علی خاں ناظم
  18. یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔعاصی و گناہ گار یعنی ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
  19. صوفی ہوں نہ واعظ ہوں نہیں ہوں ملابلبل نہیں اے گل جو کہوں میں گل لاعبدالرحمان احسان دہلوی
  20. اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میںدل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میںاحمد حسین مائل
  21. افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہےگھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہےاحمد حسین مائل
  22. اقرار نگر کو گدائی کا ہےدعویٰ افلاس و بے نوائی کا ہےاحمد حسین مائل
  23. اللہ متاع زندگانی مل جائےپھر عہد شباب کی نشانی مل جائےاحمد حسین مائل
  24. پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دےمرکب پہ لیے گنہ کا بار آنے دےاحمد حسین مائل
  25. پیری میں شباب کی نشانی نہ ملیافسوس متاع زندگانی نہ ملیاحمد حسین مائل
  26. ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کیپر کی تری نخوت نے تباہی دل کیاحمد حسین مائل
  27. کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیںلب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیںاحمد حسین مائل
  28. کہتے ہیں کہ رونق‌ جمالی ہوں میںشہرہ ہے کہ جلوۂ جلالی ہوں میںاحمد حسین مائل
  29. میں اپنے کفن کا سینے والا نکلاہر سانس میں مر کے جینے والا نکلااحمد حسین مائل
  30. میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیامیں حشر میں پی کے مست و سرشار آیااحمد حسین مائل
  31. ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہےمیرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہےاحمد حسین مائل
  32. ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہےانصاف کرو دونوں میں کون اچھا ہےاحمد حسین مائل
  33. ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرےتقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرےاحمد حسین مائل
  34. یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیراآئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرااحمد حسین مائل
  35. یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھایا رب جو کچھ نظر نے دیکھا دیکھااحمد حسین مائل
  36. خجلت سے مرا جاتا ہوں کیا زندہ ہوںاعمال سے اپنے سخت شرمندہ ہوںساحر دہلوی
  37. عالم کا وجود ہے نمود بے بودہے آب سراب اس کی ہستی کی نمودساحر دہلوی
  38. لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفاتہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثباتساحر دہلوی
  39. مردود خلائق ہوں گنہ گار ہوں میںپامال جہاں ہوں کہ سزاوار ہوں میںساحر دہلوی
  40. ہر سر میں یہ سودا ہے کہ میں ہی میں ہوںہر دل میں سمایا ہے کہ میں ہی میں ہوںساحر دہلوی
  41. یارب مرے دل کو عطا صدق و صفاہو نقش صداقت سے فنا وہم ریاساحر دہلوی
  42. مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اورتن قید کے چھوٹنے سے ہستی ہے اورقاسم علی خان آفریدی
  43. جو نخل ہو خشک اس کا پھلنا کیا ہےدنیا ہی نہیں تو کار دنیا کیا ہےمیر مہدی مجروح
  44. جو ہے سو پست سب سے عالی تو ہےشایان صفات ذوالجلای تو ہےمیر مہدی مجروح
  45. چلنے کا تو ہو گیا بہانہ تم کوفتنہ ہے ہر اک طرح اٹھانا تم کومیر مہدی مجروح
  46. زوروں پہ ہے روز ناتوانی میریبد تر پیری سے ہے جوانی میریمیر مہدی مجروح
  47. میں خاک تھا آدمی بنایا تو نےاور عیب معاصی کو چھپایا تو نےمیر مہدی مجروح
  48. آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہےہم سنگ فلاخن پئے زر پھرتا ہےبیان میرٹھی
  49. اسرار جہاں لطیفۂ غیبی ہیںسب عالم تحت و فوق ترکیبی ہیںبیان میرٹھی
  50. افلاس میں کیوں ٹیکس لگا رکھا ہےاسٹام کے جال میں پھنسا رکھا ہےبیان میرٹھی