Poetry
- معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گیتا قبر نہ راحت سے ذرا گزرے گیRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیےافسانہ ہوئے بیان ہونے کے لیےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- جنت کا سماں دکھا دیا ہے مجھ کوکونین کا غم بھلا دیا ہے مجھ کوAkhtar Shirani (1905–1948)
- مے خانہ بہ دوش ہیں گھٹائیں ساقیپیمانہ فروش ہیں فضائیں ساقیAkhtar Shirani (1905–1948)
- آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔاس حکم کو ہم سنیں ملک سے ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
- الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شرابکہتے ہیں ہوا چاک کشاکش میں نقابسید یوسف علی خاں ناظم
- پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نےمشہور کیا سعیٔ نظر کو میں نےسید یوسف علی خاں ناظم
- ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیںپر عشق کی تاثیر بھی بے کار نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- عاشق جو ہوا ہے تو کسے پر ناگاہہے میری طرح سے حال تیرا بھی تباہسید یوسف علی خاں ناظم
- کیا بات ہے کارساز تیری میں کونکیا شان ہے بے نیاز تیری میں کونسید یوسف علی خاں ناظم
- گر عقل و شعور کی رسائی ہوتےواعظ کی سمجھ میں بات آئی ہوتیسید یوسف علی خاں ناظم
- گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیحایسا ہے کچھ اتحاد باطل ہے صریحسید یوسف علی خاں ناظم
- گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقیہے اس سے ہمیں ایک حکایت باقیسید یوسف علی خاں ناظم
- گو کچھ بھی وہ منہ سی نہیں فرماتے ہیںشیریں سخنی کا ہم مزا پاتے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخساردین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبارسید یوسف علی خاں ناظم
- وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگاپیدا بھی ہوا تو تو ہی کہہ کیا ہوگاسید یوسف علی خاں ناظم
- یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیففاقوں سے ہوئے ہیں آدمی زار نحیفسید یوسف علی خاں ناظم
- یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔعاصی و گناہ گار یعنی ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
- صوفی ہوں نہ واعظ ہوں نہیں ہوں ملابلبل نہیں اے گل جو کہوں میں گل لاعبدالرحمان احسان دہلوی
- اشک آئے غم شہ سے جو چشم تر میںدل جلنے لگا تڑپ تڑپ کر بر میںاحمد حسین مائل
- افزوں جو شباب دم بدم ہوتا ہےگھٹتی ہے عمر کیا ستم ہوتا ہےاحمد حسین مائل
- اقرار نگر کو گدائی کا ہےدعویٰ افلاس و بے نوائی کا ہےاحمد حسین مائل
- اللہ متاع زندگانی مل جائےپھر عہد شباب کی نشانی مل جائےاحمد حسین مائل
- پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دےمرکب پہ لیے گنہ کا بار آنے دےاحمد حسین مائل
- پیری میں شباب کی نشانی نہ ملیافسوس متاع زندگانی نہ ملیاحمد حسین مائل
- ثابت ہے تن میں بادشاہی دل کیپر کی تری نخوت نے تباہی دل کیاحمد حسین مائل
- کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیںلب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیںاحمد حسین مائل
- کہتے ہیں کہ رونق جمالی ہوں میںشہرہ ہے کہ جلوۂ جلالی ہوں میںاحمد حسین مائل
- میں اپنے کفن کا سینے والا نکلاہر سانس میں مر کے جینے والا نکلااحمد حسین مائل
- میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیامیں حشر میں پی کے مست و سرشار آیااحمد حسین مائل
- ہم راہ عدم سے اضطراب آیا ہےمیرے لیے دنیا میں عذاب آیا ہےاحمد حسین مائل
- ہے سوئے فلک نظر تماشا کیا ہےانصاف کرو دونوں میں کون اچھا ہےاحمد حسین مائل
- ہے عرش بھی یک فرش قدم کا تیرےتقدیر نوشتہ ہے ہے قلم کا تیرےاحمد حسین مائل
- یا رب مرے دل میں ہے اجالا تیراآئینے کی ہے بغل میں جلوا تیرااحمد حسین مائل
- یہ مجھ سے نہ پوچھ تو نے کیا کیا دیکھایا رب جو کچھ نظر نے دیکھا دیکھااحمد حسین مائل
- خجلت سے مرا جاتا ہوں کیا زندہ ہوںاعمال سے اپنے سخت شرمندہ ہوںساحر دہلوی
- عالم کا وجود ہے نمود بے بودہے آب سراب اس کی ہستی کی نمودساحر دہلوی
- لازم ملزوم ہو گئے ذات و صفاتہیں شخص و وجود عکس و سایہ کا ثباتساحر دہلوی
- مردود خلائق ہوں گنہ گار ہوں میںپامال جہاں ہوں کہ سزاوار ہوں میںساحر دہلوی
- ہر سر میں یہ سودا ہے کہ میں ہی میں ہوںہر دل میں سمایا ہے کہ میں ہی میں ہوںساحر دہلوی
- یارب مرے دل کو عطا صدق و صفاہو نقش صداقت سے فنا وہم ریاساحر دہلوی
- مجھ کو تو شراب سے مستی ہے اورتن قید کے چھوٹنے سے ہستی ہے اورقاسم علی خان آفریدی
- جو نخل ہو خشک اس کا پھلنا کیا ہےدنیا ہی نہیں تو کار دنیا کیا ہےمیر مہدی مجروح
- جو ہے سو پست سب سے عالی تو ہےشایان صفات ذوالجلای تو ہےمیر مہدی مجروح
- چلنے کا تو ہو گیا بہانہ تم کوفتنہ ہے ہر اک طرح اٹھانا تم کومیر مہدی مجروح
- زوروں پہ ہے روز ناتوانی میریبد تر پیری سے ہے جوانی میریمیر مہدی مجروح
- میں خاک تھا آدمی بنایا تو نےاور عیب معاصی کو چھپایا تو نےمیر مہدی مجروح
- آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہےہم سنگ فلاخن پئے زر پھرتا ہےبیان میرٹھی
- اسرار جہاں لطیفۂ غیبی ہیںسب عالم تحت و فوق ترکیبی ہیںبیان میرٹھی
- افلاس میں کیوں ٹیکس لگا رکھا ہےاسٹام کے جال میں پھنسا رکھا ہےبیان میرٹھی